سنبھل کر چلئے
بھاری جسم کی وجہ سےاس کے لیے یہ خطرہ ہے کہ نیچے کی مٹی اگر نرم ہواور اس کا پاوں اس میں گھُس جائے اس کے لیے اس سے نکلنا سخت مُشکل ہو جاے گایہ ہی وجہ ہے کہ ہاتھی جب تک یہ نا دیکھ لےکہ نیچے کی سطح مضبوط ہےوہ قدم آگے نہیں بڑھاتا۔ہر بار جب وہ قدم رکھتا ہےتو اس پر اپنا پورا بوجھ نہیں ڈالتا۔وہ ہلکا قدم رکھ کرپہلے اسکی نرمی اور سختی آزماتا ہے۔اور جب اندازا کر لیتا ہے کہ زمین سخ ہے اس وقت اس پر اپنا پورا بوجھ رکھ کر اگے بڑھتا ہے۔یہ طریقہ ہاتھی کو کس نے سیکھایا جواب یہ ہے کہ خُدا نے۔۔
اس کا مطلب یہ ہئ کہ ہاتھی کےاس طریقے کو خُدائی تصدیق حاصل ہے۔گویا زندگی کے لیےخُدا کا بتایا ہوا سبق یہ ہے کہ جب راستہ میں کسی خطرہ کا اندیشہ ہو تو اس طرح نہ چلا جائے جس طرح بے خطرراستہ پر چلا جاتا ہے۔بلکہ ہر قدم سنبھل سنبھل کر رکھا جائے۔زمین کی قوت کااندازہ کرتے ہوئے بڑحا جائے۔
انسان کو خُدا نےہاتھی سے زیادہ عقل دی ہے۔جہاںبارود کے زخیرے ہوں وہاں آدمی دیا سلائی نہیں جلاتا۔ جس ٹرین میں پٹرول کے ڈبے لگے ہوے ہوں اس کا ڈرائیور بے احتیا طی کے ساتھ اس کی شنٹینگ نہیں کرتا۔مگر اسی اصول کو اکثر لوگ سماجی زندگی میں بھول جاتےہیں۔ہر سماج میں طرح طرح کے انسان ہوتے ہیں اور وہ طرح طرح کے حالات پیدہ کیے رہتے ہیں۔
سماج میں کہیں دلدل ہوتا ہے اور کہیں پیٹرول،،کہیں،، کانٹا،، ہوتا ہے۔ اور کہیں ،،گڑھ،، عقلمند وہ ہے جواس قسم کے سماجی موقع سے بچ کر نکل جاےنہ کہ اس سے اُلجھ کر اپنے راستہ کو کھوٹا کرے جس آدمی کے سامنے کوئی مقصد ہو وہ راستہ کی نا خوشگواریوں سے کبھی نہیں اُلجھے گاکیوں کہ وہ جانتا ہے کہ ان سے اُلجھنا اپنے آپکو اپنے مقصدسے دور کر لینا ہے۔با مقصد آدمی کی توجہ آگے کی طرف ہوتی ہے نہ کہ دائیں،بائیں کی طرف ۔وہ مُستقل نتائیج پر نظر لگتا ہےنہ کہ وہ وقتی کاروایوں پر۔۔وہ حقیقت کی نسبت سے چیزوں کو دیکھتا ہے نہ کہ ذاتی خواہشات کی نسبت سے۔زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیےقدم پھونک پھونک کر رکھا جاتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں