لکھا رکھا ہے عہد ترک اُلفت
مگر دل دستخط کرتا نہیں ہے۔
💘
گلی گلی میرے ذرے بکھر گئے تھے ظفر
خبر نہ تھی کہ وہ کس راستے سے گزرے گا
💘
نہ انکھوں میں آنسو نہ لب پر ہنسی ہے
تری زندگی بھی کوئی زندگی ھے
💘
اُتھنا تیری چوکھٹ سے اور سوچ کے یہ رُکنا
جائیں تو کدھر جائیں پچھتا کے پھر آنا ہے
💘
نشے کی طرح مُحبت بھی ترک ہوتی نہیں ہے
جو ایک بار کرے گا وہ بار بار کرے گا
💘
نا اب وہ یادوں کا چڑھتا دریانہ فُرستوں کی اُداس برکھا
یوں ہی ذرا سی کسک ہے دل جو ذخم گہرا تھا بھر گیا وہ
💘
آئینہ کہتا ہے کہنا تو نہیں چاہیے تھا
تو ابھی زندہ ہے رہنا تو نہیں چاہیے تھا
💘
یوں نہ پڑھیے کہیں کہیں سے ہمیں
ہم بھی انسان ہیں کتاب نہیں
💘
ہمیں نےاُسکو اتنا دیکھا جتنا دیکھا جا سکتا ہے لیکن پھر بھی دو آنکھوں سےکیا کیا دیکھا جا سکتا ہے
💘
اپنا تاوان لیکے چھوڑے گا
عشق ہے جان لیکے چھوڑے گا
💘

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں